نئی دہلی 8/ ستمبر (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) مسلم پرسنل لا کا پورا قانون خدا کا نازل کردہ قانون ہے جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات و ہدایات اورعمل پر مشتمل ہے، مسلم پرسنل لا میں نکاح و طلاق کے معاملات قرآن و حدیث کے عین مطابق ہیں جسمیں ذرہ برابر ترمیم و تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی عدالت کو اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ اسمیں کوئی تبدیلی کرے اور نہ کوئی اسمیں تبدیلی کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم ومین ویلفیئر آرگنائزیشن کی سکریٹری محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ نے اپنے صحافتی بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ہر مذہب میں شادی، طلاق اور نان نفقہ سے متعلق معاملات بالکل مختلف ہیں۔کسی مذہب میں دئیے گئے اختیارات کے جائز یا ناجائز ہونے پر عدالت کوئی سوال نہیں اٹھاسکتی۔
قرآن کریم کے مطابق طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔۔ لیکن ضرورت پر دی جاسکتی ہے۔ اسلام نے ہر وقت عورتوں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا ہے۔ طلاق کے موقع پربھی مردکو اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض مرد و خواتین کی جہالت، جلد بازی اور زیادتی کی وجہ سے بھی ازدواجی تعلقات بگڑ جاتے ہیں اور معاملات عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن یہ تمام معاملات صرف اورصرف شریعت اسلامی (مسلم پرسنل لاء) کی روشنی میں طئے ہونے چاہئیں۔ مرد کے حق طلاق ثلاثہ کو ملک کی عدالتیں چھین نہیں سکتی اور نہ ہی کوئی ملکی قانون اسے چیلنج کرسکتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بعض نام نہادمسلم خواتین کی تنظیمیں اعداء اسلام کے اشارے پر مسلم سماج میں انتشار پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہیں شریعت سے نابلدمٹھی بھر خواتین قرآن کریم اور شریعت اسلامی کی خود ساختہ تشریحات کرکے معصوم مسلم خواتین کو گمراہ کررہی ہیں۔ جبکہ 99%مسلم خواتین شریعت اسلامی پر مکمل یقین اور ایمان رکھتی ہیں۔ انھیں برگشتہ کرنے کی تمام مذموم کوششوں کا ہر سطح پر جواب دینے اور مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور شریعت مخالف خواتین کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے اور اسکے پیچھے جو عناصر کام کررہے ہیں انہیں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ میں طلاق، تعدد ازدواج اور یونیفارم سول کوڈ پر مقدمات زیردوراں ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنا موقف سپریم کورٹ میں پوری قوت کے ساتھ تحریری طور پر پیش کردیا ہے، جو شریعت اسلامیہ کے مطابق ہے، اور تمام مسلم خواتین اسکی حمایت میں ہیں، چند خواتین فرقہ پرست اور مسلم مخالف طاقتوں کے زیر اثر بورڈ کے موقف کی مخالفت کررہی ہیں جنکی تعداد بہت تھوڑی ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کو پورے دلائل کے ساتھ سپریم کورٹ میں بحث بھی کرنی چاہئے، اور شریعت کی بھرپور ترجمانی کی امید بورڈ سے ہے۔